ہزاروں دماغی خلیات کو ریکارڈ کرنے والی چپ تیار

مسلسل 15 برس کی ان تھک محنت کے بعد سوئزرلینڈ کے سائنسدانوں نے ایک ایسی چپ بنائی ہے جو نہایت عمدگی اور وضاحت کے ساتھ ہزاروں دماغی خلیات (نیورونز) کو ریکارڈ کرسکتی ہے۔

ای ٹی ایچ نامی ادارے کے ڈاکٹر اینڈریئس ہیئرلیماں اور ان کے ساتھیوں نے تجربہ گاہ میں اعصابی خلیات کی برقی سرگرمی کو نوٹ کیا ہے۔ اس طرح سے کسی تفتیشی ڈش کےنیچے چپ رکھ کر انفرادی طور پر خلیات کی سرگرمی کو نوٹ کیا جاسکتا ہے۔

خردبینی برقیروں (الیکٹروڈ) کی یہ قطار ایک چپ پر سموئی گئی ہے۔ یہ چپ پہلے سے تیارشدہ نظام کے مقابلے میں ذیادہ الیکٹروڈ رکھتی ہے اور بہت تفصیلی ڈیٹا ریکارڈ کرتی ہے۔ اس طرح چپ کو کئی اہم کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
چپ کے چار ملی میٹر لمبے اور دو ملی میٹر چوڑے رقبے پر 20 ہزار کے قریب خردبینی الیکٹروڈ لگائے گئے ہیں۔ اسی بنا پر یہ اعصابی خلئے سے کوندنے والا باریک ترین جھماکہ بھی محسوس کرلیتے ہیں۔ لیکن ان سگنلوں کو بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ الیکٹروڈ کی بڑی تعداد بہت اچھی طرح کام کرتی ہے اور لگ بھگ بہت سارے اعصاب کی برقی سرگرمی کو نوٹ کرتی رہتی ہے۔ تاہم فطری طور پر اس میں برقی شور یا نوائز بھی شامل ہوسکتی ہے ۔ لیکن اس چپ میں دنیا کے طاقتور اور بہترین ایمپلی فائر استعمال کئے گئے ہیں جو ہر اعصاب کی معمولی سرگرمی کو بھی نوٹ کرلیتے ہیں۔ اس طرح پورے نظام کی بہت صاف اور واضح تفصیل سامنے آتی ہے۔

نیچر کمیونکیشن میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق چپ دل کے خلیات، آنکھوں کے ریٹینا اور دماغ کے بہت سے گوشوں کی برقی سرگرمی کو ریکارڈ کرسکتی ہے۔ بعض مقامات پر یہ ایک وقت میں 1000 سے زائد خلیات کی سرگرمی ریکارڈ کرتی ہے۔

توقع ہے کہ اس سے ادویہ کے تجربات اور نئی دواؤں کی تیاری میں بھی مدد ملے گی۔ یعنی چند ہزار دماغی خلیات پر دوا ڈال کر اس کا جائزہ لیا جاسکے گا۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com