یورپ مہاجرت کے نئے بحران کے آغاز کے دھانے پر

کُرس کے بقول یہ یورپی یونین کے لیے اپنی بیرونی سرحدوں کے تحفظ کی صلاحیتوں کا ”امتحان‘‘ ہے۔ آسٹریا کے چانسلر نے کہا کہ آسٹریا یونان اور کسی دوسرے ملک کی مدد کے لیے تیار ہے جس کو ”اس قسم کے حملوں‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ،”میں آپ کو ایک بات کی ضمانت دے سکتا ہوں کہ اگر یورپی یونین کی بیرونی سرحدیں کام نہیں کر سکتیں تو، (اندرونی) سرحدوں کے بغیر یورپ تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔

مہاجرین کا ایک نیا بحران
پیر دو مارچ کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ترکی کے اس اقدام کو ”ناقابل قبول‘‘ قرار دیا اور یورپی یونین کے مہاجرت کے امور کے کمشنر ماگاریٹس سکیناس نے کہا کہ کوئی بھی ”یورپی یونین کو بلیک میل یا دھمکا نہیں سکتا۔‘‘ واضح رہے کہ رجب طیب ایردوآن نے شام شہر ادلب میں حکومتی افواج اور ترکی کی حمایت یافتہ باغیوں کے مابین شدید جھڑپوں کے دوران یہ اقدام کیا، اور جس کے بعد انقرہ اور برسلز کے مابین پناہ گزینوں کے تنازعے میں مزید شدت پیدا ہوئی۔

ترکی کو شمالی شام سے فرار ہونے والے قریب ایک ملین مہاجرین کے نئے سیلابی ریلے کا سامنا ہے۔ اسی لیے انقرہ حکومت نے یونان کے ساتھ اپنی سرحدیں کھول دینے کا فیصلہ کیا۔ مہاجرین میں شام کے علاوہ دیگر علاقوں سے پناہ کی تلاش میں یورپ کا رُخ کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

یونان نے اپنی زمینی سرحد بند کرتے ہوئے، فوج اور پولیس کی نفری میں واضح اضافہ کر دیا ہے۔ یونانی حکومت نے خاص طور سے ترکی کے ساحل سے یونان کے مشرقی جزائر تک مختصر لیکن خطرناک بحری راستے پر مہاجر کشتیوں کو روکنے کی کوشش کے لیے اضافی فورسز تعینات کی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری کارروائی کے ذریعے ایک نئے انسانی بحران کو روکا جائے۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ ترکی اور یونان کی سرحدوں پر پائی جانے والی صورتحال محض ایک جھلک ہو سکتی ہے یورپ کے لیے ہجرت کے ایک اور بحران کا آغاز کی۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com