ہزارہا تارکین وطن کی شدید سردی میں ترک یونانی سرحد پر شب بسری.

یورپی یونین میں داخلے کے خواہش مند ہزارہا تارکین وطن نے سخت سردی میں گزشتہ رات ترک یونانی سرحدی علاقے میں کھلے آسمان کے نیچے بسر کی۔ ان تارکین وطن میں بالغ مردوں کے علاوہ چھوٹے بچوں والے بہت سے خاندان بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے کارکنوں کے مطابق یورپ پہنچنے اور وہاں اپنے لیے پناہ کے خواہش مند ان غیر یورپی تارکین وطن کی تعداد کم از کم بھی 13 ہزار ہے۔ وہ اس وقت ترکی کے یونان اور بلغاریہ کے ساتھ 212 کلومیٹر طویل زمینی سرحدی علاقے میں مختلف مقامات پر اس نیت سے عارضی طور پر قیام کیے ہوئے ہیں کہ کسی طرح یونان یا بلغاریہ اور یوں یورپی یونین میں داخل ہو جائیں۔

آئی او ایم کی ترکی میں امدادی سرگرمیوں کے نگران اہلکار لادفو گویلاوا نے بتایا، ”یہ تارکین وطن اس وقت بہت سے گروپوں کی صورت میں ترکی اور یونان کے درمیان سرحدی علاقے میں مختلف قصبوں اور مقامات پر اس امید میں رکے ہوئے ہیں کہ موقع ملنے پر سرحد پار کر کے یونان میں داخل ہو سکیں۔ چند مقامات پر تو تارکین وطن کے ان گروپوں میں شامل افراد کی تعداد تین تین ہزار تک بنتی ہے۔‘‘

لادفو گویلاوا نے کہا، ”پہلے ترک حکومت ان غیر ملکیوں کو ترک یونانی سرحد کے قریبی علاقوں کی طرف جانے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ اب دو روز قبل ترکی نے اپنا رویہ بدل دیا۔ یوں یہ ہزار ہا تارکین وطن استنبول اور دیگر شہروں سے ٹیکسیوں اور بسوں میں سوار ہو کر یونان کے ساتھ ترک سرحدی علاقوں میں پہنچے اور مزید ابھی آ رہے ہیں۔ ان کی بہت بڑی تعداد ترک صوبے ادرنہ سے یونان کے ریاستی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان تارکین وطن نے گزشتہ رات سخت سردی میں کھلے آسمان کے نیچے بسر کی۔‘‘

ہفتہ انتیس فروری کو ترکی سے سمندری راستے سے یونانی جزیرے لیسبوس پہنچنے والی ایک تارک وطن خاتون
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے دیگر ذرائع کے مطابق یہ تارکین وطن صرف اکیلے سفر کرنے والے بالغ مرد ہی نہیں بلکہ ان میں بہت سی خواتین اور چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔ چھوٹے بچوں والے ان خاندانوں کو سخت سردی میں اس وقت بہت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com