جرمنی کن ممالک سے ہنرمند افراد لانا چاہتا ہے؟

جرمنی کو ہنرمند افراد کی کمی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ اس وجہ سے سینکڑوں اداروں اور فیکڑیوں میں ملازمین کی گنجائش موجود ہے۔ جرمنی ہنرمند افراد کی کمی کیوں پوری نہیں کر پا رہا اور اس حوالے سے اس ملک کو کن مسائل کا سامنا ہے؟
جرمنی میں حالیہ چند برسوں کے دوران لاکھوں تارکین وطن پہنچے ہیں اور ان میں نوجوانوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ جرمنی کی کوشش ہے کہ ان نوجوانوں کو مناسب تعلیم و تربیت فراہم کرتے ہوئے ان کا معاشرے میں انضمام ممکن بنایا جائے اور انہیں ان شعبوں میں ملازمتیں فراہم کی جائیں، جہاں ہنرمند افراد کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ لیکن اب حکومت کو ایسے منصوبوں کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جرمنی میں دفتر برائے مہاجرت اور تارکین وطن (بامف) کے سربراہ ہانس ایکہارڈ زومر کا کہنا ہے کہ مہاجرین کو لیبر مارکیٹ میں ضم کرنا بہت ہی مشکل چیلنج ہے اور اسی وجہ سے وہ اب جنوبی یورپی ممالک سے نوجوانوں کو جرمنی لانا چاہتے ہیں۔

جرمن اخبار ‘رائنشے پوسٹ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنوبی یورپی ممالک میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہے اور وہ پڑھے لکھے بھی ہیں جبکہ ایسے نوجوانوں کا معاشرے میں انضمام بھی مقابلتاً آسان سمجھا جاتا ہے۔

جرمنی میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافہ جبکہ نوجوانوں کی تعداد میں کمی ہوتی جا رہی ہے۔ اس وجہ سے حکومت کو دیگر ممالک کے ہنرمند اور پڑھے لکھے نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ ہنرمند افراد کی کمی پوری کرنے کے لیے یکم مارچ سے جرمنی میں ہنرمند افراد کی امیگریشن سے متعلق ایک نیا قانون نافذالعمل ہو رہا ہے۔ اس کا مقصد غیرملکی ہنرمند افراد کو جرمنی میں ملازمتیں تلاش کرنے میں آسانی فراہم کرنا بھی ہے۔

اس نئے قانون کے تحت پاکستان جیسے ممالک سے بھی پڑھے لکھے نوجوان ملازمت کی تلاش کے لیے جرمنی آ سکیں گے۔ لیکن ہانس ایکہارڈ زومر کا کہنا تھا، ”میرے خیال سے ہمیں یورپی نوجوانوں کو ترجیح دینی چاہیے۔‘‘ بامف کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ پہلے سے ملک میں موجود مہاجرین کو بھی تعلیم و تربیت فراہم کر رہے ہیں لیکن ایسے کورسز میں شامل سترہ فیصد مہاجرین بالکل ناخواندہ ہیں اور انہیں تعلیم فراہم کرنے میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی اقرار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جو نوجوان مہاجرین تعلیم و تربیت کے کورسز کو سنجیدہ لے رہے ہیں، ان کے نتائج تسلی بخش ہیں، ”کورسز میں شامل تیرہ فیصد مہاجرین اس قدر جرمن بول اور لکھ سکتے ہیں، جتنی عام طور پر چھ سال کے دوران پرائمری اسکول میں سیکھی جاتی ہے۔‘‘

دوسری جانب ہانس ایکہارڈ زومر کا پاکستان، بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک سے ہنرمند یا پڑھے لکھے نوجوانوں کو بڑی تعداد میں جرمنی لانے سے خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس طرح یہ ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ ان کے مطابق اس طرح ‘برین ڈرین‘ سے خود ترقی پذیر ممالک کی معیشت سست روی کا شکار ہو جاتی ہے، ” میرے خیال سے اگر جرمنی غریب یا ترقی پذیر ممالک سے اتنی بڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان لے آئے گا تو یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com