جرمنی: سیاسی پناہ کے خواہش مند افراد کی تعداد میں کمی۔

سال 2019 کے دوران جرمنی میں سیاسی پناہ کے حصول کے لیے دی جانے والی درخواستوں کی تعداد میں کمی تو آئی ہے تاہم پناہ کے خواہش مند افراد کے لیے جرمنی اب بھی یورپی یونین کا سب سے پسندیدہ ملک ہے۔
یورپی یونین کے دفتر شماریات یورو اسٹیٹ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر فنکے میڈیا گروپ اور روئٹرز ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنوری سے نومبر 2019 ء کے درمیان ایک لاکھ تینتیس ہزار کے لگ بھگ افرا د نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے جرمن حکام کو درخواستیں دیں۔ 2018 ء کے اسی مدت کے مقابلے یہ تعداد 13فیصد کم ہے۔

تاہم تعداد میں کمی کے باوجود جرمنی سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے اب بھی سب سے پسندیدہ ملک ہے۔ اس سال کے اوائل سے ستمبر کے اواخر تک جرمنی میں پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ گیارہ ہزار تھی، جو یورپی یونین کے ملکوں میں پناہ حاصل کرنے کے لیے مجموعی درخواستوں کا 23 فیصد ہے۔ اسی طرح سن 2018 اور سن 2017 میں یورپی یونین میں پناہ کے لیے درخواست دہندگان میں سے بالترتیب 28 فیصد اور31 فیصد نے جرمنی میں اپنی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔

فنکے میڈیا کے ذریعہ حاصل کردہ یہ اعدادوشمار وفاقی دفتر برائے تارکین وطن اور پناہ گزین (بی اے ایم ایف) کے سربراہ ہنس ایکارڈ سومرکی نومبر میں کی گئی پیشن گوئی کی تصدیق کرتے ہیں۔ سومر نے روزنامہ بلڈ ام سونٹاگ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا ”مجھے توقع ہے کہ اس سال کے آخر تک پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار سے ایک لاکھ پینتالیس ہزار کے درمیان رہے گی۔ اس طرح یہ 2018 ء سے کچھ کم ہی رہے گا۔”

یہ اعدادو شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں، جب دو روز قبل ہی جرمن وفاقی پولیس کے سربراہ ڈیٹر رومان نے جرمنی میں ملک بدری کے نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کے بقول حکومت کو سیاسی پناہ کی درخواستوں پر کام کرنے کے لیے مزید مراکز تعمیر کرنے چاہییں۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com