سندھ اور بلوچستان میں تیل و گیس کے دو بڑے ذخائر دریافت۔

قوم کے لیے ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں گیس اور تیل کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں جس سے گیس کے بحران میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے مطابق تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کی مہم میں متعلقہ اداروں کو دو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جس سے ملک میں قدرتی گیس کی کمی پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی۔ ان کامیابیوں کے بارے میں پی پی ایل کی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو بھیجے گئے خط میں آگاہ کردیا گیا ہے۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں 152 بیرل یومیہ خام تیل اور مجموعی طور پر 39اعشاریہ 30 ملین کیوبک فٹ یومیہ قدرتی گیس کے نئے ذخائرکی دریافت کی گئی ہے۔

پی پی ایل نے اپنے خط میں بتایا ہے کہ سندھ کے علاقے خیرپور لطیف بلاک کے بٹرو ون کنوئیں میں 2 کروڑ 86 لاکھ کیوبک فٹ یومیہ گیس کے ذخائرکی دریافت ہوئی ہے اور یہ دریافت پی پی ایل نے دیگر کمپنیوں لطیف ایکسپلوریشن کمپنی، ای این آئی پاکستان لمیٹڈ اور یونائیٹڈ انرجی پاکستان شامل کے اشتراک سے کی ہے۔  خط میں بتایا گیا ہے کہ خیر پورکے اس کنویں سے یومیہ 152 بیرل خام تیل کی بھی پیداوارحاصل ہوگی۔

پی پی ایل انتظامیہ نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں بھی ذخائر کی تلاش کے دوران مہم کے تحت قدرتی گیس اور مائع شے کے ذخائرکی دریافت ہوئی ہے۔ بلوچستان کے علاقے قلات میں واقع چکتن لائم میں مرگینڈ کنویں سے ایک کروڑ 7 لاکھ کیوبک فٹ گیس دریافت ہوئی ہے اور مرکنڈ کے ہی کنویں سے یومیہ 132 بیرل پیداوار کی حامل ایک ایسے مائع شے کی بھی دریافت ہوئی ہے جسکی ساخت اور استعمال کے بارے میں لیبارٹری جانچ کی جارہی ہے۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ بٹرو ون کنوئیں میں کام جاری ہے، ذخائر دریافت کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہاں سے گیس کے مزید ذخائر کی دریافت متوقع ہے۔ خیرپور بٹرو ون کنوئیں کی کھدائی کا آغاز 6 اکتوبر 2019ء سے کیا گیا تھا جس کی گہرائی 11 ہزار854 فٹ ہے جبکہ بلوچستان کے مرگینڈ کنوئیں کی کھدائی کا کام 30 جون 2019ء سے شروع کیا گیا تھا اس کنوئیں کی گہرائی 4 ہزار 500 میٹر ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com