ہفتے میں چالیس گھنٹے سے زیادہ کام، ہائی بلڈ پریشر کا سبب، تحقیق

ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وہ افراد جو ہفتے میں 40 یا اس سے زائد گھنٹے کام کرتے ہیں اُنہیں بلڈ پریشر (بلند فشار خون) کا عارضہ لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس حوالے سے کینیڈا کی لاوال یونیورسٹی کیوبک کے سائنس دانوں نے دفتروں میں کام کرنے والے ساڑھے تین ہزار افراد کی صحت کا تجزیہ کیا، جس کے دوران نتیجہ سامنے آیا کہ ہفتے میں 35 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کے نتیجے میں بلڈ پریشر کی بیماری لاحق ہونے کا خطرہ دوتہائی تک بڑھ جاتا ہے۔

ان سائنس دانوں نے مزید بتایا کہ وہ ملازمین جو کہ ایک ہفتے میں چالیس گھنٹوں سے زیادہ کام کرتے ہیں ان میں ہائپرٹینشن (بلڈ پریشر کا طبی نام) کے لاحق ہونے کے امکانات پچاس فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

جبکہ وہ لوگ جو کہ دفتروں میں ہفتہ بھر کے دوران 49 گھنٹوں سے زیادہ وقت گزارتے ہیں، ان میں یہ خطرات 70 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ اسٹریس (دباؤ)، نیند کی کمی اور ورزش کی کمی سے یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

یہ سب مل کر جسم پر اضافی دباؤ کا سبب بنتے ہیں اور جو افراد ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوں ان میں اسٹروک، ہارٹ اٹیک یا پھر گردوں کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

اس پانچ سالہ تحقیق میں وائٹ کالر ملازمت کرنے والے ملازمین کا کینیڈا کی تین انشورنس کمپنیوں میں جائزہ لیا گیا، جوکہ تین ٹیسٹوں پر مشتمل تھا، جس میں پہلے سال، تیسرے سال اور پانچویں سال ٹیسٹنگ شامل تھی۔

ان افراد کو جسم سے منسلک کرکے رکھنے والا بلڈ پریشر مانیٹر کرنے والا  آلہ فراہم کیا گیا۔جس سے صبح میں تین بار بلڈ پریشر چیک کیا جاسکے۔ یہ افراد مذکورہ بالا آلہ دن کے بقیہ حصے میں بھی پہنے رہتے تھے۔

ان افراد کی ہر پندرہ منٹ بعد ریڈنگ لی جاتی، اس طرح ایک دن میں کم از کم بیس مرتبہ اضافی اقدامات کیے جاتے تھے۔ جسکے نتیجے میں اوسطاً یہ ریڈنگ 90/140 رہی، جبکہ ورکنگ ریڈنگ 85/135 نوٹ کی گئی جسے ہائی بلڈ پریشر سمجھا جاتا ہے۔

اس تحقیق میں ایک ہفتے میں 35 گھنٹے سے کم کام کرنے والوں اور چالیس گھنٹوں سے زیادہ کام کرنے والوں کا تقابل کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ چالیس یا اس سے زیادہ گھنٹے کام کرنے والوں میں ہائیپر ٹینشن کے امکانت کافی زیادہ ہوتے ہیں۔

تحقیق میں دیگر عوامل جیسے کہ ملازمت کا دباؤ، عمر، جنس، سگریٹ نوشی، تعلیم اور باڈی ماس انڈیکس جیسے امکانی خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا.

 

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com