مہاجرين کی ’دوزخ‘ موريا کيمپ کے آس پاس زندگی۔

انتيس ستمبر کو موريا کيمپ ميں لگنے والی آگ ميں اس افغان خاندان کا سب کچھ جل کر راکھ ہو گيا۔ چار افراد پر مشتمل يہ خاندان اب موريا کيمپ کے باہر ايک خيمے ميں گزر بسر کر رہا ہے۔ دو چھوٹے بچوں کے ہمراہ ہونے کے باوجود ان کا دعویٰ ہے کہ حکام نے ان کی کوئی مدد نہيں کی اور يہ کيمپ بھی انہيں ايک امدادی ادارے نے ديا ہے۔

موريا کيمپ کی زيادہ تر آبادی نوجوان لڑکوں پر مشتمل ہے۔ اسمارٹ فون وہاں روز مرہ کی زندگی کے ليے ايک اہم جزو ہے۔ ديگر يورپی ملکوں يا آبائی ملکوں ميں اہل خانہ کی خيريت جاننی ہو يا معاملہ تفريح کا ہو، ضرورت اسمارٹ فون ہی پوری کرتا ہے۔

موريا اور اس کے آس پاس کی مہاجر بستيوں ميں بچوں کے ليے سہوليات نہ ہونے کے برابر ہيں۔ يہ دو افغان بچياں اِدھر اُدھر گھوم کر اپنا دل بہلا رہی ہيں۔ اس علاقے ميں بچوں کو کيمپوں کے درميان تنگ راستوں اور سڑکوں پر اکثر ديکھا جا سکتا ہے۔ اپنے ارد گرد کی پريشانيوں سے نا آشنا ان بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ، موريا کيمپ کے رہائشيوں کے ليے ٹھنڈی ہوا کے ايک جھونکے کی مانند ہے۔

موريا کيمپ کے سيکشن بی ميں ڈيڑھ سو بچوں کی گنجائش ہے ليکن وہاں ساڑھے پانچ سو کے لگ بھگ بچے مقيم ہيں۔

موريا کيمپ کے اکثريتی رہائشيوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔ اس تصوير ميں ايک باپ اور بيٹا کيمپ کے بيرونی ديوار سے ٹيک لگائے بيٹھے ہيں۔ مردوں کے ليے پورا پورا دن بے مقصد پھرنا الجھن کا سبب بنتا ہے۔ ان مہاجرين کو نہ تو ملازمت کی اجازت ہے اور نہ ہی يہ زبان جانتے ہيں۔ اکثر دن اسی طرح بيٹھ کر کٹ جاتے ہيں۔

يونان نے گنجائش سے زيادہ بھرے ہوئے مہاجر کيمپوں کی بندش اور مہاجرين کی حراستی مراکز کے طرز کے نئے کيمپوں ميں منتقلی کا عنديہ ديا ہے۔ مہاجرين کے ليے ’دوزخ‘ سے تعبير کيا جانے والا موريا کيمپ بھی عنقريب بند کر ديا جائے گا۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com