جرمن شہر ڈریسڈن میں ’نازی ایمرجنسی‘ کا اعلان

جرمنی کا مشرقی شہر ڈریسڈن اسلام مخالف تحریک پیگیڈا کا گڑھ رہا ہے۔ اس شہر کی بلدیہ نے ایک ایسی قرار داد منظور کی ہے جس میں دائیں بازو کی انتہا پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے شہر میں ’نازی ایمرجنسی‘ نافذ کر دی گئی ہے۔

ڈریسڈن کی سٹی کونسل نے ارکان کی منظوری کے بعد ایک پالیسی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا، ”ڈریسڈن شہر میں جمہوریت اور تکثیریت مخالف، نفرت اور دائیں بازو کی انتہا پسندی پر مبنی رویے اور تشدد پر مبنی اقدامات بڑھ رہے ہیں۔‘‘

یہ قرارداد جرمنی کی طنزیہ سیاسی جماعت ‘ڈی پارٹائی‘ کے کونسلر ماکس آشن باخ نے پیش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا، ”ڈریسڈن میں نازی ایک حقیقی مسئلہ ہیں اور ہمیں اس کے تدارک کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ سیاست دانوں کو آخرکار کھل کر کہنا ہو گا، نہیں، یہ ہمیں قابل برداشت نہیں۔‘‘

سن 2014 میں اسی شہر میں اسلام مخالف تحریک پیگیڈا کا آغاز ہوا تھا۔ PEGIDA کا جرمن زبان میں مطلب ‘مغربی دنیا کی اسلامائزیشن کے خلاف بین الیورپی اتحاد‘ بنتا ہے اور اس تنظیم کا صدر دفتر بھی ڈریسڈن میں قائم ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com