ڈیل یا نو ڈیل: ’برطانیہ کو بریگزٹ بل تو ادا کرنا ہی پڑے گا.یورپی یونین ۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ اس سال اکتیس اکتوبر کو کسی ڈیل کے بغیر بھی یونین سے نکلا، تو بھی اسے بریگزٹ بل تو ادا کرنا ہی پڑے گا۔ لندن کے ذمے اس بل کی مالیت انتالیس بلین پاؤنڈ یا تینتالیس بلین یورو بنتی ہے۔

برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے پیر چھبیس اگست کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یونین کے اعلیٰ ترین انتظامی بازو یعنی یورپی کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ برطانیہ کو اب تک کے پروگرام کے مطابق 31 اکتوبر تک اس بلاک کو خیرباد کہہ دینا ہے۔

موجودہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ لندن حکومت کی رائے میں اگر تو بریگزٹ پر عمل درآمد تک کوئی باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا، تو برطانیہ یورپی یونین کو وہ رقوم ادا کرنے کا بھی پابند ہو گا، جنہیں عرف عام میں ‘بریگزٹ بل‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر لندن اور برسلز کے مابین کوئی معاہدہ طے نہ پایا، تو اس صورت میں، جسے ‘نو ڈیل بریگزٹ‘ کہا جاتا ہے، لندن حکومت یونین کو کسی بھی طرح کی مالی ادائیگیوں کی پابند نہ ہو گی۔

اس کے جواب میں اب یورپی کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ برطانیہ آئندہ اگر یورپی یونین کا رکن نہیں بھی رہتا، تو بھی اسے اپنے ذمے وہ ادائیگیاں تو ہر حال میں کرنا ہی ہوں گی، جو یورپی یونین کا قانونی حق بھی ہیں۔

اس بارے میں یورپی کمیشن کی پختہ رائے یہ ہے، ”بریگزٹ کسی ڈیل کے ساتھ ہو یا کسی ڈیل کے بغیر ہی، برطانیہ اس بل کی ادائیگی کے بغیر اپنی مالیاتی ذمے داریوں سے عہدہ برا ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com