مہاجرین کی وجہ سے سیاحوں کا جزیرہ ساموس کا رخ کرنے سے اجتناب۔

جزیرہ ساموس میں مہاجرین کی وجہ سے سیاحت کو زبردست جھٹکا سیاحوں کا ساموس جزیرہ کا رخ کرنے سے اجتناب۔

جزیرہ ساموس میں واقع” واتھی کیمپ” اور روزبروز آنے والے مہاجرین کی وجہ سے صورتحال کشیدہ سے کشید ترہوتی جارہی ہے ۔

وا تھی کیمپ میں گنجائش سے زیادہ افراد کی رہائش ہے جس کی وجہ سے آئے دن مسائل پیدا ہو رہے ہیں دوسری طرف جزیرے میں ہر روز آنے والے مہاجرین کا اضافہ ہو رہا ہے جو کہ ترکی سے جزیرہ ساموس میں داخل ہو رہے ہیں۔

مہاجرین کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کونگو سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ لڑکی نے بتایا کہ” واتھی” کیمپ میں زندگی کی بنیادی ضروریات میسر نہیں نہانے کے لئے باتھ نہیں سونے کے لیے کھلی جگہوں پر سونا پڑتا ہے آئے دن لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں حتیٰ کہ ٹوائلٹ بھی میسر نہیں ہیں کھانے پینے کی اشیاء کے لئے کیمپ کے رہائشیوں کو 100 ڈالر دیے جاتے ہیں جن سے ضروریات زندگی پوری نہیں کرسکتے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ یورپی یونین اور یونان کے  حکومتی ذرائع ان مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دیں ورنہ صورتحال دن بدن بگڑتی جائے گی۔

جزیرہ ساموس یونان کے سیاحتی مقامات میں سے ایک تھا لیکن اب مہاجرین کی موجودگی میں سیاحوں کی بڑی تعداد جزیرہ ساموس میں جانے سے اجتناب کر رہی ہیں یونان کی معیشت کو زبردست جھٹکا اس وقت لگتا ہے جب سیاحت کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی واقع ہوتی ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com