’ پناہ گزینوں کا عالمی دن:دنیا میں سات کروڑ سے زیادہ لوگ پناہ گزین ہیں‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے قیام کے ستّر برسوں کے دوران پہلی بار جنگوں، تنازعات اور جبر کے باعث بے گھر ہونے اور عارضی کیمپوں میں پناہ لینے والے افراد کی تعداد سات کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

ادارے کی سالانہ رپورٹ، گلوبل ٹرینڈز، کے مطابق گذشتہ برس 23 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

یہ تعداد 20 برس پہلے کے مقابلے میں دگنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 37 ہزار افراد روزانہ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

ایسے افراد کو پناہ دینے والے ممالک میں ترکی سرِفہرست ہے جہاں پناہ گزینوں کی تعداد 37 لاکھ ہے جبکہ پاکستان دوسرے نمبر ہے جہاں اس وقت پناہ گزینوں کی تعداد14 لاکھ ہے۔ یوگینڈا میں 12 لاکھ، سوڈان میں 11 لاکھ جبکہ جرمنی میں بھی 11 لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی کا کہنا ہے کہ ’ان اعداد و شمار میں جو چیز ہمیں نظر آ رہی ہے وہ اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ طویل مدت میں جنگوں، تنازعات اور جبر سے بھاگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

’اگرچہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے بارے میں بعض حلقوں کی جانب سے تلخی کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر ساتھ ہی ہم دوسرے لوگوں کی جانب سے فراخدلی کا مظاہرہ بھی دیکھ رہے ہیں، خاص طور سے جو ان افراد کو پناہ دیتے ہیں۔‘

دنیا کی آبادی کے تناسب سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سنہ 1992 میں پناہ لینے والوں کی تعداد سب سے زیادہ 3.7 افراد فی ہزار تھی جبکہ سنہ 2018 کے اختتام پر یہ دگنی سے بھی زیادہ سطح پر پہنچ گئی، یعنی 9.3 افراد فی ہزار تھی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کے مطابق سنہ 2018 کے حقیقی اعداد و شمار کہیں زیادہ ہیں کیونکہ رپورٹ میں وینزویلا کے بحران کی وجہ سے نقل مکانی کرنے کی درست تعداد کی عکاسی نہیں ہو سکی ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com