دوباک چیلنج: سردی ہے تو کیا ہوا، شغل تو جاری رہے گا منفی 50درجہ حرارت میں بھی روسی موج مستی کرتے ہیں۔

روس کے مشرقی علاقوں میں منفی 40 سے منفی 50 درجۂ حرارت بھی لوگوں کو باہر نکل کر موج مستی کرنے سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق روس میں آج کل درجۂ حرارت عموماً ان دنوں کے درجۂ حرارت سے کہیں کم ہے۔

موسم سرد ہو تو گرم پانی کو فضا میں اچھال کر اسے برف بنتا دیکھنے کا شغل کون نہیں کرنا چاہتا۔ حال ہی میں شمالی امریکہ میں پولر وورٹیکس کے دوران یہ لوگوں کا پسندیدہ مشغلہ رہا۔

اب روس میں لوگ اس سلسلے میں ’دوباک‘ چیلنج میں حصہ لے رہے ہیں۔ دوباک روسی زبان میں انتہائی سرد موسم کو کہتے ہیں۔

اولگا شکلارووا ارال کے مشرق میں یکتارنبرگ نامی شہر میں برف کے بادل کی تصویر اولگا شکلارووا نے کھینچی
ناستیا ستردوبتسیوا چھلانگ کا مقصد خوشی کا اظہار تھا یا جسم گرم رکھنے کی کوشش یہ تو کوہ ارال کے قریب رہنے والی ناستیا ستردوبتسیوا ہی جانتی ہیں
اولیا کلینینااولیا کلینینا نے یہ دوباک چیلنج سائبیریا کے علاقے کراسنویارسک میں سرانجام دیا
رینات منکوفرینات منکوف کا برفانی پانی کا چکر
نزنی وارتووسک کے الیگزینڈر بوروزدیننزنی وارتووسک کے الیگزینڈر بوروزدین نے کچھ رنگ بھی استعمال کیے اور دو برتنوں کی مدد سے پانی اچھال کر کچھ پروں جیسا منظر بنانے کی کوشش کی

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com