انڈونیشیا میں تباہ کن سونامی، 220 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی۔

انڈونیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ سونامی کے سبب آبنائے سُنڈا کے ساحلی علاقے کی زد میں آ گئے ہیں جس میں کم از کم 220افراد ہلاک اور تقریباً آٹھ سو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

ملک کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے کہا ہے کہ ہفتے کوآنے والی سونامی میں سینکڑوں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سونامی کی وجہ کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے کے سبب سمندر کے اندر مٹی کے تودے گرنا ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے شب کو آنے والی سونامی میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

زیادہ تر ہلاکتیں پینڈگلینگ، جنوبی لامپنگ اور سیرانگ علاقوں میں ہوئی ہیں۔ سونامی کی زد میں آنے والے علاقوں میں مغربی جاوا کا معروف سیاحتی ساحل تانجنگ لیسنگ بھی شامل ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی فوٹیج میں اونچی اونچی لہریں ریزارٹ کے اس مقام سے ٹکراتی نظر آئی ہیں جہاں معروف بینڈ ‘سیونٹین’ اپنا پروگرام پیش کررہا تھا۔

پرنم آنکھوں سے گلوکار ریفائن فجرسیہ نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان کے بینڈ کے باس (کھرج) نواز اور روڈ منیجر کا اس سونامی میں انتقال ہو گيا ہے جبکہ ان کے بینڈ کے تین دوسرے افراد اور خود ان کی اہلیہ لاپتہ ہیں۔

ملک کی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ وہ اس عمارت کے نیچے دبے لوگوں کی تلاش میں ہیں جو سونامی کے سبب منہدم ہو گئی ہے۔

ریڈ کراس کی اہلکار کیتھی میولر نے بی بی سی کو بتایا: ‘زمین ملبے، کچلی ہوئی کاروں اور موٹر سائیکل سے بھری پڑی ہے، ہمیں منہدم عمارتیں نظر آ رہی ہیں۔’

بظاہر پینڈگلینگ کی اہم سڑک کو شدید نقصان پہنچا ہے اور امدادی کارکنوں کو لوگوں تک پہنچنے میں دشواری ہو رہی ہے۔

عینی شاہد آصف پیرانگکت نے بتایا کہ ‘کاریں اور کنٹینرز دس دس میٹر دور بہہ گئی ہیں۔ (کیریٹا) ساحل کے کنارے کی عمارتیں تباہ ہو گئيں ہیں، پیڑ اور بجلی کے کھمبے زمین پر آ گئے ہیں۔’

انڈونیشیا کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ترجمان سوتوپو پوروو نوگروہو نے لیمپنگ میں ہونے والی تباہی کا فوٹیج جاری کیا ہے۔

مغربی جاوا میں اینیار ساحل پر ناروے کے آتش فشاں کی تصویریں لینے والے فوٹوگرافر اویسٹین لنڈ اینڈرسن موجود تھے۔

انھوں نے کہا: ‘میں ساحل پر تنہا تھا، میرے گھر کے لوگ ایک کمرے میں سو رہے تھے۔ میں کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے کی تصاویر لینے کی کوشش کر رہا تھا۔

‘شام کو آتش فشاں کے پھٹنے کی شدید سرگرمی تھی۔ لیکن سمندری لہروں کے ساحل سے ٹکرنے سے قبل آتش فشاں میں کوئي سرگرمی نہیں تھی۔ وہاں مہیب اندھیرا تھا۔

‘اور پھر میں نے ایک لہر اٹھتی ہوئي دیکھی اور مجھے بھاگنا پڑا، دو لہریں تھیں۔ پہلی بہت تیز نہیں تھی اور میں اس دوڑ کر اس سے بچ نکلا۔

‘میں دوڑتا ہوا سیدھا ہوٹل پہنچا جہاں میری بیوی اور میرا بیٹا سو رہا تھا۔ میں نے انھیں جگایا اور پھر میں نے بڑی لہر کے آنے کی آواز سنی۔ میں نے کھڑکی سے دیکھا وہ بہت اونچی تھی۔ لہر ہوٹل سے ہو کر گزری جس سے کاریں سڑک سے نچے چلی گئيں۔

ہم اور دوسرے ہوٹل والے ہوٹل کے پاس ہی جنگل میں اونچی جگہ کی تلاش میں بھاگے اور ابھی تک پہاڑی پر ہی ہوں۔’

سونامی کا سبب کیا ہو سکتا ہے؟

ایمرجنسی سروسز کے حکام سونامی کے آنے کی وجوہات کی جانچ کررہے ہیں۔ بظاہر یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سُندا آبنائے میں انک کراکاٹوا جزیرے کے آتش فشاں پھٹنے کے سبب سمندر میں سونامی پیدا ہوئی ہے۔

آتش فشاں کے مطالعے کی ماہر جیس فینکس نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘جب آتش فشاں پھٹتا ہے تو گرم لاوا زمین سے ابل پڑتا ہے جو کہ زیر زمین ٹھنڈی چٹانوں کو بھی توڑ پھوڑ کر نکل پڑتا ہے اور یہ لینڈسلائڈ کا موجب بنتا ہے۔’

انھوں نے مزید کہا: ‘کراکاٹوا آتش فشاں کا کچھ حصہ زیر آب ہے اس لیے صرف لینڈ سلائڈ کے بجائے زیر آب بھی لینڈ سلائڈ ہوتا ہے اور وہ جب آگے بڑھتا ہے تو پانی کو بھی دھکا دیتا ہے جس سے سونامی پیدا ہو سکتی ہے۔’

آتش فشاں

حالیہ مہینوں کے دوران انک کراکاٹوا آتش فشاں کی حرکت میں اضافہ نظر آیا ہے۔

انڈونیشیا کی ارضیاتی ایجنسی نے کہا کہ آتش فشاں جمعے کو دو منٹ اور 12 سیکنڈ کے لیے پھٹا تھا جس کے سبب پہاڑ پر راکھ کا بادل اٹھا جو 400 میٹر کی بلندی تک گیا۔

اس نے یہ بھی کہا کہ اس اتش فشاں کے دہانے کے آس پاس دو کلومیٹر کے رقبے میں کسی کو نہیں ہونا چاہیے۔

انڈونیشیا ایسے علاقے میں آباد ہے جہاں مسلسل زلزلے اور آتش فشاں کے پھٹنے کا خطرہ بنا رہتا ہے اور بحر الکاہل کے اس علاقے کو رنگ آف فائر یعنی آتشی انگشتری کہتے ہیں۔

ستمبر میں انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے پر زلزلے کے سبب دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس سے پیدا ہونے والی سونامی کی زد میں پالو شہر بھی آ گيا تھا۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com