ایشیا کا وہ ملک جو راتوں رات ہی مالدار ہو گیا۔

دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی والے ملک انڈونیشیا میں متوسط طبقے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان نئے امیروں کو انڈونیشیا کے ‘کریزی رِچ’ یعنی سرپھرے نو دولتیے کہا جا رہا ہے۔

انڈونیشیا کے ترقی پذیر متوسط طبقے کے لوگ ملک کے مغربی علاقوں میں مرکوز ہو رہے ہیں، ان کے پاس اتنے پیسے ہیں جتنا کبھی ان کے والدین نے خوابوں میں بھی نہ سوچے ہوں۔ اور زیادہ تر لوگ اسے معمول کی چیز اور ضروری سمجھتے ہیں تاکہ دکھاوا کیا جا سکے۔

گذشتہ دو دہائيوں میں انڈونیشیا میں غربت میں تیزی سے کمی آنے کے نتیجے میں اب ہر پانچ میں سے ایک آدمی متوسط طبقے میں شامل ہو گیا ہے۔

اس کے بعد سے وہاں مصنوعات کا سیلاب سا آ گیا ہے۔ یہ نودولتیے اس جزائر کے سلسلے میں وسیع قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں جن میں لکڑیاں، روغن تاڑ، کوئلہ، سونا اور کانسی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ جارحانہ دیسی سرمایہ کاری، کم ٹیکس اور مزدوری کے قانون کے نفاذ کی عدم موجودگی کا بہت فائدہ اٹھا رہے ہیں جو نظام کی کمزوریوں سے واقف ہیں۔

سلیمون ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو نظام کو نہیں سمجھتے لیکن انھوں نے بھی ایک طرح سے اپنے بچوں کا مستقبل بنایا ہے جو ان کی اپنی زندگی سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

وہ جاروب کش ہیں اور ماہانہ ڈھائی سو ڈالر کماتے ہیں۔ وہ مینٹینگ کے امیر گھروں کے کوڑے لے جاتے ہیں جن میں کوڑے کے ڈھیر ہوتے ہیں اور جو بے لگام صارفیت کا مظہر ہیں۔

انھوں نے بے کار لکڑیوں سے ایک ٹھیلہ تیار کیا ہے جسے وہ ہاتھوں سے کھینچتے ہیں۔ وہ ایسی تمام چیزوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں جس کی کوئی قیمت مل سکے۔ وہ ان کو چھانٹتے ہیں اور ہمارے یہاں جمع کرتے ہیں اور پھر اسے فروخت کر دیتے ہیں۔

سلیمون

وہ فطری طور پر کسان ہیں اور انھوں نے سوئمنگ پول کو مچھلیوں کا تالاب بنا دیا ہے جبکہ باغیچے کو کیلے کے باغ میں تبدیل کر دیا ہے۔

جو کچھ وہ کماتا ہے اسے وہ وسطی جاوا کے ایک دیہات میں آباد اپنے اہل خانہ کو بھیج دیتا ہے اور سال میں صرف ایک بار ان سے ملنے جاتا ہے۔ امیروں کے کوڑے سے کمائی جانے والی دولت سے اس کے بچوں نے ہائی سکول پاس کر لیا ہے اور اب جکارتہ کے چمکتے ہوئے مالز میں فروخت ہونے والی مصنوعات کو بنانے کا کام کرتے ہیں۔

اس کی بیٹی مختصر سے عرصے کے لیے اس کے ساتھ رہنے آئی تھی۔ وہ اپنے فون میں بہت دلچسپی لے رہی تھی۔

سلیمون شاید سرپھرے امیر نہ بن سکیں لیکن ان کی آنے والی نسل ابھی سے پکی صارف بن چکی ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com