سلوواکیہ کاعالمی پناہ گزین معاہدے سے دستبرداری کا اعلان۔

 یورپی یونین کےرکن ملک سلوواکیہ نے منظم مہاجرت پر اقوام متحدہ کے ایک معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔

اس سے قبل امریکا اور آسٹریلیا کے علاوہ متعدد یورپی ممالک اس عالمی مجوزہ ڈیل سے باہر نکلنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سلوواکیہ کے وزیر اعظم پیٹر پیلیگرینی نے برسلز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا،سلوواکیہ کسی صورت میں بھی مراکز میں ہونے والی کانفرنس میں اقوام متحدہ کے مہاجرت پر معاہدے کی حمایت اور اس سے اتفاق نہیں کرے گا۔ ہماری حکومت اس بات سے متفق نہیں کہ قانونی اور غیر قانونی مہاجرت میں کوئی فرق نہیں ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اقتصادی وجوہات پر امیگریشن غیر قانونی، ضرر رساں اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔سلوواکیہ کے وزیر اعظم نے مزید کہا،اگر سلوواکیہ حکومت کے کسی بھی نمائندے کی آئندہ ماہ مراکش میں عالمی ادارے کی مہاجرت پر ہونے والی کانفرنس میں شرکت از خود اس کا معاہدے پر متفق ہونا سمجھا جاتا ہے تو سلوواکیہ کے وزیر خارجہ میرو سلاو لاجکاک سمیت کوئی بھی اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔لاجکاک جنہیں اقوام متحدہ کے منظم اور محفوظ مہاجرت پر مجوزہ ڈیل کا حمایتی سمجھا جاتا ہے، پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگر سلوواکیہ نے اس دستاویز کی توثیق نہیں کی تووہ اپنے عہدے سے استعفی دے دیں گے۔

تاہم وزیراعظم پیلیگرینی نے اتوار کے روز کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ وزیر خارجہ لاجکاک کو منا لیں گے۔خیال رہے کہ امیگریشن کے مجوزہ عالمی معاہدے پر اٹھارہ ماہ کے طویل مذاکرات کے بعد رواں برس جولائی میں اتفاق رائے ہوا تھا اور اسے آئندہ ماہ مراکش میں ہونے والی کانفرنس میں منظور کر لیا جائے گا۔مجوزہ ڈیل کو ہنگری ، امریکا، آسٹریا، آسٹریلیا،چیک ری پبلک،اور پولینڈ پلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ بلغاریہ نے بھی اس سے باہر نکلنے کا عندیہ دیا ہے۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com